تلاش کے نتائج حاصل کرنے کے لیے یہاں ٹائپ کریں۔

زید خالد کے پاس چالیس ہزار پا رہا ہے اب عمر نے ضمانت لی تو زید کس سے لے گا؟؟

1

زید خالد کے پاس چالیس ہزار پا رہا ہے اب عمر نے ضمانت لی تو زید کس سے لے گا؟؟

 

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

ســـــوال

زید کا ساٹھ ہزار روپیہ خالد کے پاس باقی ہے اور خالد نہیں دے رہا ہے زید کو تو عمر نے کہا زید سے کہ تمہیں چالیس ہزار میں دے دیتا ہوں اور وہ پیسہ میرے اوپر چھوڑ دیجئے اب وہ میرا ہوگیا سمجھ لیجئے وہ دے یا نا دے آپ سے مطلب نہیں ہے تو زید نے کہا ٹھیک ہے؟ تو ایسا کرنا شریعت میں کیا حکم ہےجواب عنایت فرمائیں حوالہ کے ساتھ۔ 

 السائل۔محمد رئیس رضوی بلاس پور چھتیس گڑھ


_______________

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ تعالیٰ وبرکاتہ

الجـــــوابـــــــــــــــ: بعون الملک الوھاب                                                                                                                                               

 مذکورہ صورت کفالت کی ہے کفالت کہتے ہیں ایک شخص اپنے ذمہ کو دوسرے کے ذمہ کے ساتھ مطالبہ میں ضم کر دے یعنی دوسرے کے مطالبہ کی ذمہ داری اپنے ذمہ لے لینا۔ در مختار میں ہے : وشرعا ضم ذمة الكفيل الي ذمة الأصيل في المطالبة مطلقاً۔(ج 7 کتاب الکفالۃ صفحہ 553)

فتاویٰ ہندیہ میں ہے : أما تعريفها فقيل هي ضم الذمة الي الذمة في المطالبة. ( ج 3 کتاب الکفالۃ صفحہ 253)

 فتاویٰ رضویہ میں ہے : شرع میں کفالت کے معنی ہیں کسی کے ذمہ سے اپنا ذمہ ملا دینا دین میں ۔( جلد 17 صفحہ 688) 

بہار شریعت جلد دوم میں ہے : اصطلاحِ شرع میں کفالت کے معنی یہ ہیں کہ ایک شخص اپنے ذمہ کو دوسرے کے ذمہ کے ساتھ مطالبہ میں ضم کر دے یعنی مطالبہ ایک شخص کے ذمہ تھا دوسرے نے بھی مطالبہ اپنے ذمہ لے لیا خواہ وہ مطالبہ نفس کا ہو یا دَین یا عین کا۔ ( حصہ 12 صفحہ 836)

کفالت کا حکم یہ ہے کہ اصیل کی طرف سے اس نے جس چیز کی کفالت کی ہے اُس کا مطالبہ اس کے ذمہ لازم ہو گیا یعنی طالب کے لیے حقِ مطالبہ ثابت ہو گیا وہ جب چاہے اس سے مطالبہ کر سکتا ہے اس کو انکار کی گنجائش نہیں۔ در مختار مع رد المحتار میں ہے : و حكمها لزوم المطالبة علي الكفيل اي ثبوت حق المطالبة متي شاء الطالب بما هو علي الأصيل نفسا أو مالاً۔(ج 7 کتاب الکفالۃ صفحہ 556)


لہذا جب عمر نے ضمانت لی ہے تو عمر پر ضروری ہے کہ وہ ادا کرے اور عمر کی کفالت لینا بھی درست ہے اب جب چاہے زید عمر سے مطالبہ کر سکتا ہے۔ 

واللّٰہ تعالیٰ اعلم بالصواب

__________________

کتبــــــــــــــــــــــہ

حضــرت مفتی محمــد مظہـر حسیـن سعـدی رضـوی،خادم سعدی دار الافتاء، متوطن : نل باڑی، سوناپور ہاٹ، اتردینا جپور، بنگال الہند۔

(مــــــورخــــــہ:👈 19/10/2020)


Post a Comment

1 Comments
  1. How to play free online casino games | BBSJON
    The 온라인카지노 main difference between Best Air Jordan 11 Retro baccarat and slots in real life 카지노 추천 is that most players play on site 카지노 사이트 추천 only 우리 카지노 총판 모집 for the pleasure of the casino players.

    ReplyDelete
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.

Top Post Ad

Below Post Ad