کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام مسئلہ ذیل میں
اگر نیچے بیٹھ کر قرآن شریف دیکھ کر کوئی پڑھ رہا ہو تو کیا کوئی شخص اوپر بیٹھ سکتا ہے. عذر یا بغیر عذر۔
سائل:محمد عمیر میرا روڈ
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
الجواب بعونہ تعالیٰ
مذکورہ بالا میں اوپر بیٹھنا سوء ادب ہے۔اگر عذر ہو مثلاً وہ وہاں سے اٹھ، بیٹھ نہیں سکتا ہے یا وہ جس مرض میں مبتلا ہے وہاں سے اٹھنے، بیٹھنے سے ظن غالب بڑھ جائے گا تو قاعدہ کلیہ کی روشنی میں ضرورت کے تحت بیٹھ سکتا ہے ورنہ نہیں۔۔
فتاویٰ رضویہ میں ہے :اور اگر منبر پر کھڑے ہونے میں اس طرف امام کی پیٹھ ہوتی ہے تو ضرور خلاف ادب ہے اور اگر پاؤں یا مجلس سے بلا سائر نیچے ہیں تو اور زیادہ سوء اور ادب ہے (جلد 23 صفحہ 378 ) اسی میں ہے : تو کیونکر ادب ہوگا کہ کتابیں نیچے رکھی ہوں اور آپ اوپر بیٹھیں کیا ایسے لوگوں کو بے ادبی کی شامت سے خوف نہیں۔ ( جلد 23 صفحہ 337 )۔الاشباہ والنظائر میں ہے : الضرورات تبيح المحظورات۔ ضرورتیں محظورات کو مباح کر دیتی ہے۔ ( القاعدۃ الخامسۃ الضرر یزال صفحہ 307)۔۔
واللہ تعالیٰ اعلم
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ
حضرت مفتی محمد مظہر حسین سعدی رضوی صاحب قبلہ مد ظلہ العالی والنورانی،خادم سعدی دار الافتاء، متوطن : نل باڑی، سوناپورہاٹ،اتردیناجپور، ویسٹ بنگال، الہند۔
*30/ ربیع الاخر 1442ھ*
*16/ دسمبر 2020ء*
*_رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎*_
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰


Mashallah
ReplyDelete