السلام و علیکم و رحمة اللہ وبرکاتہ علماء کرام کی بارگاہ میں ایک سوال عرض ہے کہ اگر کوئی ناپاکی کی حالت میں سحری کھائے تو کیا اس کا روزہ ہوگا یا نہیں اور اگر سحری کھانے کے بعد احتلام ہو جائے تو اس کا کیا حکم ہے
السائل : محمد نوازشریف قادری جھار کھنڈ
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ
الجواب بعونہ تعالیٰ
روزہ ہو جائے گا خواہ احتلام رات میں ہو یا دن میں ہو ہاں نماز چھوڑنے کی سبب سے سخت گناہگار ہوگا۔فتاویٰ رضویہ میں ہے : وہ شخص نمازیں عمداً کھونے کے سبب سخت کبائر کا مرتکب اور عذابِ جہنم کا مستوجب ہُوا مگر اس سے روزے میں کوئی نقص و خلل نہ آیا طہارت باجماعِ ائمہ اربعہ شرطِ صوم نہیں۔ رب عزوجل فرماتا ہے: احل لکم لیلۃ الصیام الرفث الی نسائکم"روزے کی راتوں میں تمھارے لئے بیویوں سے جماع حلال کیا گیا ہے۔آیہ کریمہ نے ہرجزو شب میں جماع و تلبیس بالجماع حلال فرمایا اور محض تحلیل ہی نہیں بلکہ بصیغہ امر ارشادی ارشاد ہوا۔فالاٰن باشروھن وابتغواماکتب اﷲلکم"اور اب ان سے مباشرت کرو اور تلاش کرو جو ﷲ تعالیٰ نے تمہارے لیے لکھ رکھا ہے۔اور ظاہر ہے کہ جز واخیر شب کو بھی لیلۃ الصیام شامل ، اور وہ بھی اس احل لکم اور باشروھن کے امر میں داخل، اور اسے بحالتِ جنابت صبح کرنا اور تاتمامی غسل، روزے میں جنب رہنا بداہۃً لازم، تو قرآن عظیم اس کی حلّت ودخول زیر امر ارشادی پر حاکم۔اگر اس سے روزے میں کوئی نقص و خلل آتا ضرور اتنے حصے کا استثناء فرما دیتا،پھر صاحبِ شرع صلی ﷲتعالیٰ علیہ وسلم نے عملا اُس کا بے نقص و بے خلل ہونا فرمادیا۔ صحیحین میں ام المومنین عائشہ صدیقہ و ام المومنین ام سلمہ رضیﷲتعالیٰ عنہما سے ہے:ان رسول ﷲصلی ﷲتعالی علیه وسلم کان یدرکه الفجر وھو جنب من اھله ثم یغتسل ویصوم"رسول ﷲصلی ﷲعلیہ وسلم ازواجِ مطہرات سے قربت فرماتے اور صبح ہوجاتی جب تک نہ نہاتے اس کے بعد غسل فرماتے اور روزہ رکھتے۔صحیح مسلم ومؤطا مالک و سُنن ابی داؤدو نسائی میں اُمّ المو منین صدیقہ رضی ﷲتعالیٰ عنہا سے ہے:ان رجلا قال لرسول ﷲصلی ﷲتعالی علیہ وسلم وھو واقف علی الباب وانا اسمع یا رسول ﷲ انی اصبح جنبا وانا ارید الصیام فقال رسول ﷲصلی ﷲتعالی علیہ وسلم وانا اصبح جنبا وانا ارید الصیام فاغتسل واصوم فقال الرجل یا رسول ﷲانک لست مثلنا قد غفر ﷲلک ما تقدم وما تاخر فغضب رسول ﷲصلی ﷲتعالی علیہ وسلم وقال انی ارجوان اکون اخشٰیکمﷲاعلمکم بما اتقی" یعنی حضور پُر نور صلی ﷲتعالیٰ علیہ وسلم اپنے دراوزہ اقدس کے پاس کھڑے تھے ایک شخص نے حضور سے عرض کی اور میں سُن رہی تھی کہ یارسول ﷲ! میں صبح کو جنب اٹھتا ہوں اور نیت روزے کی ہوتی ہے حضور صلی ﷲتعالی علیہ وسلم نے فرمایا میں خود ایسا کرتا ہُوں اُس نے عرض کی حضور کی ہماری کیا برابری، حضور کو تو ﷲعزوجل نے ہمیشہ کے لیے پُوری معافی عطا فرمادی ہے۔ اس پر حضور اقدس صلی ﷲتعالیٰ علیہ وسلم غضب ناک ہُوئے اور فرمایا: بیشک میں امید رکھتا ہوں کہ مجھے تم سب سے زیادہ ﷲعزوجل کاخوف ہے اور میں تم سب سے زیادہ جانتا ہوں جن جن باتوں سے مجھے بچنا چاہئے۔اس حدیث صحیح نے خوب واضح فرمادیا کہ اس سے روزہ میں کوئی نقص نہیں آتا ورنہ وہ صاحب سائل تھے محل بیان میں سکوت نہ فرمایا جاتا، سکوت کیسا اخیر کے ارشاد نے اور بھی روشن فرمادیا کہ اس میں کوئی بات خوف کی نہیں، نہ یہ اس میں داخل جس سے بچنا چاہئے۔ اور پُر ظاہر کہ روزہ غیر متجزی ہے جو چیز اس میں نقص پیدا کرے گی اگر سارے روزے میں ہُوئی تو موجبِ نقص ہوگی اور اس کے اوّل یا آخر کسی لطیف حصہ میں ہوئی تو ضرر دے گی، ولہذا ہمارے علمائے کرام نے انہیں آیات واحادیث سے ثابت فرمایا کہ اگر تمام دن جنب رہا جب بھی روزہ کو کچھ مضر نہیں۔ مراقی الفلاح میں ہے: أو اصبح جنبا ولو استمر علی حالته یوما أو ایاما لقوله تعالى فالئن باشروھن لاستلزام جواز المباشرۃ الی قبیل الفجر وقوع الغسل بعد ضرورۃ وقوله صلی ﷲ تعالي علیه وسلم وانا اصبح جنبا و انا ارید الصیام واغتسل واصوم" یا کسی نے حالتِ جنب میں صبح کی اگر چہ وُہ اسی حالت میں ایک دن یا کئی دن رہا، کیونکہ ﷲ تعالیٰ کا ارشاد گرامی'' اب تم مباشرت کرسکتے ہو'' اس بات کا متقضی ہے کہ فجر سے تھوڑا سا پہلے تک مباشرت جائز ہو اور اس کے بعد غسل لازم ہو، اور حضور صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی'' میں نے حالتِ جنابت میں صبح کی ہے اور میں روزے کا ارادہ رکھتا ہوں میں غسل کروں گا اور روزہ رکھوں گا۔بحر الرائق میں ہے: لو اصبح جنبا لا یضرہ کذا فی المحیط"۔اگر کسی نے حالتِ جنب میں صبح کی تو نقصان دہ نہیں، محیط میں اسی طرح ہے۔ عالمگیریہ میں ہے: ومن اصبح جنبا أو احتلم فی النھار لم یضرہ کذافی محیط السرخسی"جس نے بحالتِ جنابت صبح کی یادن کو احتلام ہوگیا تو یہ اسے نقصان دہ نہیں۔محیط سرخسی میں اسی طرح ہے۔( جلد 10/ صفحہ 555)
وﷲ سبحٰنہ وتعالیٰ اعلم
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ
حضرت مفتی محمد مظہر حسین سعدی رضوی،خادم سعدی دار الافتا،متوطن: نل باڑی، سوناپور ہاٹ، اتردیناجپور، ویسٹ بنگال، الہند۔
*1/ رمضان المبارک 1442ھ*
*14/ اپریل 2021ء*
*_رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎*_
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰


سبحان اللۂ
ReplyDelete