السلام علیکم اگر ایک جانور کے بارے میں اس کے مالک نے کہا کہ اس کو اللہ کے نام پر خیرات کرے گا نذر ونیاز کے طور پر، قربانی کے ایام آگئے اور اس نے اس کی قربانی کردی تو کیا ایسا کرنا صحیح ہے جانور بڑا جس میں سات حصے ملتے ہیں؟
سائل: احمد رضا
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ
الجواب بعونہ تعالیٰ
صورت مسئولہ میں اس جانور کی قربانی کرسکتے ہیں کیونکہ یہ نذر شرعی نہیں۔ مگر بہتر یہ ہے کہ اس کو بجا لائے۔ فتاویٰ رضویہ میں ہے : اس لفظ سے کہ " اللہ کی نذر کریں گے" نذر نہ ہوئی محض وعدہ ہوا، مگر اللہ عزوجل سے جو وعدہ کیا اس سے پھرنا بھی ہر گز نہ چائیے، قرآن عظیم میں اس پر وعید فرمائی ہے، افضل یہ ہے کہ کسی فقیر کو ہبہ کر کے دو ایک روپے میں اس سے خرید کر ننھی کو دے دی جائے کہ دونوں وعدے پورے ہو جائیں۔ ( جلد 13/ صفحہ 581) اسی میں ہے : یہ کوئی نذر شرعی نہیں، وجوب نہ ہوگا، اور بجا لانا بہتر، ہاں اگر احباب سے مراد خاص معین بعض فقراء و مساکین ہوں تو وجوب ہوجائے
گا۔ ( جلد 13 صفحہ 584)۔۔
وﷲ سبحٰنہ وتعالیٰ اعلم
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ
حضرت مفتی محمد مظہر حسین سعدی رضوی،خادم سعدی دار الافتا، متوطن: نل باڑی، سوناپور ہاٹ، اتردیناجپور، ویسٹ بنگال، الہند۔
*19/ ذی القعدہ 1442ھ*
*30/ جون 2021ء*
*_رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎*_
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰


Masha allah
ReplyDelete