الســـلام علیکم و رحمت ﷲ و برکاتہ
کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیان عظام مسئلہ ذیل کے بارے میں ایک امام صاحب جو مہینے میں دو یا تین بار کالا خضاب اپنے بالوں میں اور داڑھی میں لگاتے ہیں تو ایسے امام کے پیچھے نماز پڑھ نا درست ہے کی نہیں جواب دیکر شکریہ کا موقع عنایت فرمائے جزاکﷲ خیرالجزا۔۔۔۔۔۔
محمد نور الاسلام رضوی بنگلور۔۔
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ
الجواب بعونہ تعالیٰ
کالا خضاب لگانا خواہ بال یا داڑھی میں ہو از روے شرع ناجائز وحرام ہے مسلم شریف میں ہے : عن جابر ابن عبداللہ قال اتی بابی قحافة یوم فتح مکة وراسه ولحیته کالثغامة بیاضا فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غیروا ھذا بشیئ واجتنبوا السواد " ترجمہ : حضرت جابر بن عبداللہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ فتح مکہ کے دن حضرت ابو قحافہ کو لایاگیا، ان کے سر اور داڑھی کے بال ثغامہ( سفید پھولوں ) کی طرح سفید تھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ان کو کسی چیز سے بدل دو (یعنی خضاب لگاؤ )اور سیاہ رنگ سے بچو یعنی سیاہ خضاب نہ لگانا (ج2 کتاب اللباس، باب استحباب خضاب الشیب بصفرۃ، صفحہ 199)سنن ابی داؤد میں ہے: عن ابن عباس عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال یکون قوم فی آخر الزمان یخضبون بالسواد کحواصل الحمام لا يريحون رائحة الجنة " ترجمہ : حضرت عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آخری زمانے میں کچھ لوگ ہوں گے جو سیاہ خضاب کریں گے جیسے کبوتر کے پوٹے وہ لوگ جنت کی خوشبو نہیں سونگھیں گے ( کتاب الترجل، باب ما جاء فی خضاب السواد، صفحہ 118)فتاویٰ رضویہ میں ہے : صحیح مذہب میں سیاہ خضاب حالت جہاد کے سوا مطلقاً حرام ہے۔ افسوس کہ ذرا سے نفسانی شوق کے لئے آدمی ایسی سختیوں کو گوارا کرے۔محیط میں ہے :الخضاب بالسواد قال عامة المشائخ انه مکروہ"عام مشائخ نے فرمایا ہے کہ سیاہ خضاب مکروہ ہے۔ذخیرہ میں ہے:علیه عامة المشائخ"اسی پر عام مشائخ ہیں۔درمختار میں ہے : یکرہ بالسواد وقیل لا"سیاہ خضاب کا استعمال مکروہ ہے اور یہ بھی کہاگیا کہ مکروہ نہیں ہے۔ان تینوں عبارتوں کا یہی حاصل کہ عامہ مشائخ کرام وجمہور ائمہ اعلام کے نزدیک سیاہ خضاب منع ہے، علماء جب کراہت بولتے ہیں اس سے کراہت تحریم مراد لیتے ہیں جس کا مرتکب گناہگار ومستحق عذاب ہے۔ علامہ سید حموی پھر علامہ سید طحطاوی پھر علامہ سید شامی رحمہم ﷲ تعالی فرماتے ہیں : ھذا فی حق غیرالغزاۃ ولایحرم فی حقھم للارھاب" یعنی سیاہ خضاب کا حرام ہونا غیر غازی کے حق میں ہے غازیوں کے لئے حرام نہیں۔شیخ محقق مولانا عبد الحق محدث دہلوی رحمۃ ﷲ علیہ شرح مشکوۃ میں فرماتے ہیں : پیری نور الہی ست وتغییر نور الہی بظلمت مکروہ، و وعید درباب خضاب سیاہ شدید آمدہ، اھ ملخصا" بالوں کی سفیدی اللہ تعالی کا نور ہے اور خدا تعالی کے نور کو سیاہی سے بدل دینا شرعا مکروہ ہے اور سیاہ خضاب کے استعمال کرنے والوں کے لیے سخت وعید ہے ،اھ ملخصا۔اسی میں ہے : خضاب بسواد حرام ست وصحابہ وغیرہم خضاب سرخ می کردند وگاہے زرد نیز، اھ ملخصا۔" سیاہ خضاب کا استعمال حرام ہے ،صحابہ کرام اور ان کے علاوہ دیگر حضرات سرخ خضاب کیا کرتے تھے اور کبھی زرد بھی،اھ ملخصا۔بالجملہ یہی قول مختار و منصور و مذہب جمہور ثابت بارشاد حضور پر نور صلی ﷲ تعالی علیہ وسلم ہے اور شک نہیں کہ احادیث وروایات میں مطلقا سیاہ رنگ سے ممانعت فرمائی تو جو چیز بالوں کو سیاہ کرے خواہ نرانیل یا مہندی کا میل یا کوئی تیل، غرض کچھ ہو سب ناجائز و حرام اور ان وعیدوں میں داخل ہے۔( جلد 23 صفحہ 501/446)۔
لہذا صورت مسئولہ میں ایسے امام کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی، واجب الاعادہ۔ اور وہ جب تک توبہ نہ کرے اسے دوبارہ امام بنانا جائز نہیں۔
وﷲ سبحٰنہ وتعالیٰ اعلم
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
_کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ_
حضرت علامہ و مولانا مفتی محمد مظہر حسین سعدی رضوی صاحب قبلہ مد ظلہ العالی والنورانی،خادم سعدی دار الافتاء، متوطن: نل باڑی، سوناپور ہاٹ، اتردیناجپور، ویسٹ بنگال،الہند
*10/ محرم الحرام 1443ھ*
*20/ اگست2021ء*
*_رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎*_
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰


السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
ReplyDelete