رقم الفتوی : 528
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلے میں کہ:------
آج کل کچھ کارپینٹر(یعنی لکڑی کا کام کرنے والے ) چھوٹے چھوٹے لکڑی کے مندر بنا کر بیچتے ہیں(ہندو قوم کی پوجا کے لیے) کیا اس طرح لکڑی کے مندر بنا کر بیچنا جائز ہے یا نہیں؟؟؟
اسی طرح معمار (گھر بنانے والے ) مندر کی تعمیر کرتے ہیں تو کیا انکا یہ کام کرنا اور اسکی اجرت لینا جائز ہے؟؟؟
بينوا توجرا
المستفتی: بندئہ خدا
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
الجواب بعونہ تعالیٰ : صورت مسئولہ میں چھوٹے چھوٹے لکڑی کے مندر کی تجارت یہ غیر مسلموں کا مذہبی شعار ہے تو اس کی تجارت کرنا گناہ پر مدد کرنا ہےاور یہ جائز نہیں ہے۔اور اس سے حاصل ہونے والی منفعت حرام ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے :وَلَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْاِثْـمِ وَالْعُدْوَانِ ۚ "(پارہ6 سورہ مائدہ آیت 2) فتاویٰ رضویہ میں ہے : عن أبي هريرة رضي الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم من جمع مالاً حراما ثم تصدق به لم يكن له فيه أجر وكان اصره عليه" ( جلد 9/ قدیم صفحہ 18)۔اور معمار (گھر بنانے والے ) کو مندر کی تعمیر کرنا مکروہ ہے۔فتاویٰ رضویہ میں ہے : مکروہ ہے اور جو کرے مستحق سزا نہیں۔( جلد 19/ صفحہ 504)۔
وﷲ سبحٰنہ وتعالیٰ اعلم_
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ
حضرت مفتی محمد مظہر حسین سعدی رضوی،خادم سعدی دار الافتاء،متوطن : نل باڑی، سونا پور ہاٹ، اتردیناجپور، ویسٹ بنگال،الہند۔
6/ جمادی الثانی 1444ھ
31/ دسمبر 2022ء
رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎_


Mashallah
ReplyDelete