السلام علیکم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ قبرستان میں شروع سے مسجد قائم ہے اب نمازیوں کی کثرت کی وجہ سے اراکین مسجد نے دائیں جانب اور بائیں جانب دس دس فٹ سلیب بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے
یعنی نیچے قبریں رہیں گی اور بیچ بیچ میں ستون کھڑا کرکے اوپر چھت ڈالا جائے گا اس طرح سے اوپر چھت پر نماز ادا کی جائے گی
کیا اس طرح کرنا درست ہے
بحوالہ جواب عنایت فرمائیں
سائل : اکرم صدیقی میرٹھی
.....................................
الجواب بعونہ تعالیٰ : قبرستان میں مسجد بنانا جائز نہیں کہ یہ تغیر وقف ہے جو حرام و گناہ ہے۔ فتاویٰ ہندیہ میں ہے : لا يجوز تغيير الوقف عن هيئته ۔ ترجمہ : وقف کو تغییر کرنا جائز نہیں ہے اس کی صورت سے ۔(ج 2/ الباب الرابع عشر فی المتفرقات،صفحہ 490)۔رد المحتار میں ہے : الواجب ابقاء الوقف على ماكان عليه ۔ وقف کو باقی رکھنا واجب ہے جس پر وہ پہلے تھا۔ ( ج6/ کتاب الوقف، مطلب لایستبد العامر الا فی اربع صفحہ 589)۔
مذکورہ جگہ مسجد بنانے کی ایک صورت یہ ہے کہ قبروں کو بدستور باقی رکھ کر قبروں کے آس پاس سے ستون قائم کر کے چھت اتنی اوپر ڈھالیں کہ نیچے مردہ دفن کرنے کے لئے آنے جانے میں کوئی رکاوٹ نہ ہو۔تو اس چھت پر نماز پڑھنا جائز اور نماز ہو جائے گی۔یہ نماز قبر پر یا قبر کی طرف نہ ہوئی بلکہ وہ ایک مکان کی چھت پر یا اس کی دیوار کی جانب ہوئی اور اس میں کوئی حرج نہیں۔فتاویٰ رضویہ میں ہے : مسجد قدیم لب مقبرہ واقع ہے یہ بیرون حدود مقبرہ ستون قائم کر کے اوپر کافی بلندی پر پاٹ کر چھت کو صحن مسجد سابق سے ملا کر مسجد کر دینا چاہتا ہے اس طرح کہ زمین مقبرہ نہ رکے نہ اس میں دفن موتی کرنے اور اس کی غرض سے لوگوں کے آنے جانے کی راہ رکے نہ اس چھت کے ستون قبور مسلمین پر واقع ہوں بلکہ حدود مقبرہ سے باہر ہوں تو اس میں حرج نہیں جبکہ وہ زمین جس میں ستون قائم کئے گئے متعلق مسجد ہو۔( جلد 16/ صفحہ 301)
۔وﷲ سبحٰنہ وتعالیٰ اعلم_
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ
حضرت مفتی مظہر حسین سعدی رضوی برکاتی،خادم سعدی دار الافتاء،متوطن: نل باڑی، سونا پور ہاٹ، اتردیناجپور، ویسٹ بنگال،الہند۔
19/ صفر المظفر 1445ھ
6/ ستمبر 2023ء
رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎_


Ma Sha Allah
ReplyDelete