تلاش کے نتائج حاصل کرنے کے لیے یہاں ٹائپ کریں۔

دیوبندی وہابی کی نماز جنازہ پڑھنا جائز ہے یا نہیں؟

2


دیوبندی وہابی کی نماز جنازہ پڑھنا جائز ہے یا نہیں؟

رقم الفتوی : 617

السلام علیکم رحمۃ اللہ وبرکاتہ

کیا فرماتے علمائے کرام کہ دیوبندی وہابی کی نماز جنازہ پڑھانا کیسا ہے قرآن وحدیث کی روشنی جواب عنایت فرمائیں۔

المستفتی : بندئہ خدا 

...................................................

وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ

الجواب بعونہ تعالیٰ : وہابی، دیوبندی ضروریات دین کے منکر ہیں جس کی بنا پر عرب وعجم کے سیکڑوں علمائے کرام و مفتیان عظام نے انہیں کافر و مرتد قرار دیا اور بالاتفاق فرمایا۔من شك في كفره وعذابه فقد كفر" یعنی جو ان کے عقائد پر مطلع ہوتے ہوئے ان کے کفر و عذاب میں شک کرے وہ بھی کافر ہے۔قرآن مجید میں ہے : وَلَا تَرْكَنُوا إِلَى الَّذِينَ ظَلَمُوا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ وَمَا لَكُم مِّن دُونِ اللَّهِ مِنْ أَوْلِيَاءَ ثُمَّ لَا تُنصَرُونَ. ترجمہ : اور ظالموں کی طرف نہ جھکو کہ تمہیں آگ چھوئے گی۔ ( پارہ 12 سورہ ہود آیت 113) دوسری جگہ ہے : وَإِمَّا يُنسِيَنَّكَ الشَّيْطَانُ فَلاَ تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّكْرَى مَعَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ. ترجمہ: اور جو کہیں تجھے شیطان بھلاوے تو یاد آئے پر ظالموں کے پاس نہ بیٹھ۔( پارہ 7 سورہ انعام آیت 68) تفسیرات احمدیہ میں اس آیت کے تحت فرماتے ہیں : دخل فيه الكافر والمبتدع والفاسق والقعود مع كلهم ممتنع. ترجمہ: ظالموں کی قوم سے مراد عام ہے یعنی ہر مبتدع، فاسق، اور کافر اس میں شامل ہے۔( صفحہ 388)۔مسلم شریف میں ہے : فاياكم واياهم لا يضلونكم ولا يفتنونكم۔ ترجمہ: تم ان سے دور رہنا وہ تم سے دور رہیں کہیں وہ تم کو گمراہ نہ کریں اور تم کو فتنہ میں نہ ڈال دیں۔ ( ج 1 باب فی الضعفاء والکذابین صفحہ 10)جامع الاحادیث الجامع الصغیر وزوائدہ والجامع الکبیر میں ہے : قال النبي صلى الله عليه وسلم فلاتؤاكلوهم ولاتشاربوهم ولاتجالسوهم ولاتصلواعليهم ولا تصلوا معهم۔ ترجمہ: نہ ان کے ساتھ کھانا کھاؤ، اور نہ ان کے ساتھ پانی پیو، نہ ان کے پاس بیٹھو،نہ ان کے ساتھ نمازپڑھو، نہ ان کے جنازہ کی نماز پڑھو۔ ( جلد 2 صفحہ 466 )۔ فتاویٰ رضویہ میں ہے : یہ فرقے ( یعنی قادیانی، غیر مقلد، اہل قرآن، رافضی،)اور اسی طرح دیوبندی و نیچری غرض جو بھی ضروریات دین سے کسی شے کا منکر ہو سب مرتد کافر ہیں، ان کے ساتھ کھانا پینا، سلام علیک کرنا، ان کی موت وحیات میں کسی طرح کا کوئی اسلامی برتاؤ کرنا سب حرام ہے۔اسی میں ہے : ان سے کوئی معاملہ اہلِ اسلام کا سا کرنا حلال نہیں، ان سے میل جول نشست و برخاست سلام کلام سب حرام ہے۔( جلد 14 صفحہ 412/410)۔اسی میں دوسری جگہ ہے : اور آجکل یہاں کے رافضی تبرائی عموماً ایسے ہی ہیں اُن میں شاید ایک شخص بھی ایسا نہ نکلے جو ان عقائدِ کفریہ کا معتقد نہ ہو جب تو وہ کافر مرتد ہے اور اس کے جنازہ کی نماز حرام قطعی وگناہ شدید ہے۔اور اگر صورت پہلی تھی یعنی وہ مُردہ رافضی منکرِ بعض ضروریاتِ دین تھا اور کسی شخص نے با آں کہ اُس کے حال سے مطلع تھا دانستہ اس کے جنازے کی نماز پڑھی اُس کے لئے استغفار کی جب تو اُس شخص کی تجدید اسلام اور اپنی عورت سے ازسر نو نکاح کرنا چاہئے۔فی الحلیة نقلا عن القرا فی واقرہ الدعاء بالمغفرۃ للکافر کفر لطلبه تکذیب ﷲ تعالي فیما اخبربه۔حلیہ میں قرافی سے نقل کیا اور اسے بر قرار رکھا کہ : کافر کے لئے دُعائے مغفرت کفر ہے کیونکہ یہ خبر الٰہی کی تکذیب کا طالب ہے( ج 9/ صفحہ 172) اسی میں تیسری جگہ ہے : یہ سب اس صورت میں ہے کہ اس نے کسی دنیوی طمع سے ایسا کیا ہو، اگر دینی طور پر اسے کارِ ثواب اور رافضی تبرائی کو مستحق غسل ونماز جان کر یہ حرکاتِ مردودہ کیں تو وُہ مسلمان ہی نہ رہا۔ اگر عورت رکھتا ہو اس کے نکاح سے نکل گئی کہ آجکل رافضی تبرائی عموماً مرتدین ہیں( ج9/ صفحہ 174)۔

صورت مسئولہ میں وہابی دیوبندی اپنے عقائد کے سبب مرتد ہیں اگر امام صاحب یا جن لوگوں نے ان کے عقائد پر مطلع ہو کر انہیں مسلمان جانتے ہوئے یا ان کے کفر میں شک کرتے ہوئے یا دینی طور پر اسے کارِ ثواب جان کر ان کی نماز جنازہ پڑھے یا پڑھوائے یا ان کے لئے دعائے مغفرت کرے تو یہ سب کفر ہے۔ قرآن مقدس میں ہے : وَلَا تُصَلِّ عَلٰٓى اَحَدٍ مِّنْـهُـمْ مَّاتَ اَبَدًا وَّلَا تَقُمْ عَلٰى قَبْـرِهٖ ۖ اِنَّـهُـمْ كَفَرُوْا بِاللّـٰهِ وَرَسُوْلِـهٖ وَمَاتُوْا وَهُـمْ فَاسِقُوْنَ۔ ترجمہ : اور ان میں سے کسی کی میت پر کبھی نماز نہ پڑھنا اور نہ اس کی قبر پر کھڑے ہونا، بیشک اللہ اور رسول سے منکر ہوئے اور فسق ہی میں مر گئے۔( سورہ توبہ، آیت 84)۔رد المحتار میں ہے : الدعاء بالمغفرة للكافر كفر لطلبه تكذيب الله تعالي فيما اخبره به.( ج 2/ کتاب الصلاۃ،باب صفۃ الصلاۃ، مطلب فی الدعاء المحرم، صفحہ 236)۔

لہذا جس سے یہ گناہ صادر ہوا اس پر توبہ وتجدید ایمان کے بعد تجدید نکاح فرض ہے۔   

البتہ اگر امام صاحب یا جن لوگوں کو ان کے عقائد کے بارے میں اجمالاً خبر نہیں صرف اتنا معلوم ہے کہ یہ برے لوگ بد عقیدہ بد مذہب ہیں یا اس نے کسی دنیوی طمع سے ایسا کیا ہو یا اپنی جگہ بچانے کے لئے ایسا کیا ہو بغیر نیت کے نماز جنازہ پڑھی یا پڑھائی ہو تو ایسے لوگوں پر حکم کفر نہیں ہوگا تاہم وہابیوں کا مجمع بڑھانے کی وجہ سے گناہ گار ضرور ہوا اس پر واجب ہے کہ اس گناہ سے علانیہ توبہ کرے اور آئندہ کے لئے ایسا نہ کرنے کا عہد کرے۔

وﷲ سبحٰنہ وتعالیٰ اعلم_

کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ

حضرت مفتی مظہر حسین سعدی رضوی برکاتی،خادم سعدی دار الافتاء،متوطن: نل باڑی، سونا پور ہاٹ، اتردیناجپور، ویسٹ بنگال،الہند۔

27/ ذی الحجہ 1445ھ

21/ جون 2024ء    

 رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎_

Post a Comment

2 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.

Top Post Ad

Below Post Ad