رقم الفتوی : 624
السلام عليكم نحمدہْ ونصلی اعلیٰ رسولہ الکریم
امابعد ﷽سوال نمبر
(۱)
کیا فرماتے ہیں علماءکرام ومفتیان عظام مسئلہ ذیل میں
زیر کا دانت خراب ہونے کی وجہ سے زیر نے نقلی دانت بیٹھایا اب اسی حالت میں اسکی موت ہوگئ اب اس نقلی دانت کو نکالناہےیا اسی طرح سے چھوڑ دینا ہے حوالہ کے ساتھ جواب عنایت فرمائے
سوال نمبر
(۲)
کیا فرماتے ہیں علماء کرام ومفتیان عظام مسئلہ ذیل میں
بکر جان بوجھ کر ناپاکی حالت میں نماز پڑھ لی اب اسکے لئے شریعت کا کیا حکم ہے تجدید ایمان تجدید نکاح کرے یا پھر استغفار سے معاف ہو جائے گا مدلل و مفصل جواب عنایت فرمائے نوازش وکرم ہوگا
سائل : محمد منھاج انصاری مقام ماماہری تھانہ راجدھنوار گریڈیہ جھارکھنڈ
..........................................................
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
الجواب بعونہ تعالیٰ : میت کے نقلی دانت کو نکالنا جائز نہیں اس لئے کہ یہ میت کو ایذا دینا ہے اور میت کو ایذا دینا جائز نہیں۔تو نقلی دانت کو ایسے چھوڑ دے۔ سنن ابو داؤد میں ہے : کسر عظم المیّت یوذیه فی قبرہ ما یوذیه فی بیته ۔مُردے کی ہڈیاں توڑنا اور اسے ایذا دینا ایسا ہے جیسے زندے کی ہڈی توڑنا(ج 2/ کتاب الجنائز، صفحہ 102)۔در مختار مع ردالمحتار میں ہے : لایسرح شعرہ ای یکرہ تحریما ولایقص ظفرہ الا المکسور ولاشعرہ ولایختن. عن النھر عن القنیة، التزیین بعد موتھا والامتشاط وقطع الشعر لایجوز. ترجمہ: میّت کے بالوں میں کنگھا نہ کیا جائے یعنی یہ مکروہِ تحریمی ہے، اور اس کے ناخن نہ تراشے جائیں مگر جو ٹوٹا ہُوا ہے، نہ ہی بال تراشے جائیں نہ ختنہ کیا جائے۔نہر سے ،اس میں قنیہ سے منقول ہے: اس کے مرنے کے بعد زینت کرنا، کنگھا کرنا بال کاٹنا ناجائز ہے۔(ج3/کتاب الصلاۃ، باب صلوۃ الجنائز،صفحہ 89)۔
( ا)
اگر بکر نے قصداً ناپاکی کی حالت میں نماز پڑھ لی تو وہ سخت گناہگار ہوا اس پر لازم ہے کہ توبہ کرے۔ اور اگر یہ حرکت بکر نے استخفاف نماز کے طور پر کی ہے یا ناپاکی کی حالت کو جواز نماز کا عقیدہ رکھتے ہوئے کی ہے تب تو یہ کھلا ہوا کفر ہے اس پر توبہ، تجدید نکاح لازم اور از سر نو کلمہ پڑھ کر داخل اسلام ہو بیوی والا ہو تو تجدید نکاح بھی کرے۔ فتاویٰ ہندیہ میں ہے : و اختلف المشائخ رحمهم الله تعالي في كفره قال شمس الائمة الحلوائي الاظهر أنه إذا صلي الي غير القبلة علي وجه الاستهزاء والاستخفاف يصير كافرا و لو ابتلي بذلك لضرورة بأن كان يصلي مع قوم فاحدث و استحيا ان يظهر كتم ذلك و صلي هكذا أو كان يقرب من العدو فقام و صلي وهو غير طاهر قال بعض مشايخنا رحمهم الله تعالي لا يصير كافرا لأنه غير مستهزء. (ج 2/ کتاب السیر، صفحہ 269)۔
وﷲ سبحٰنہ وتعالیٰ اعلم_
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ
حضرت مفتی مظہر حسین سعدی رضوی برکاتی،خادم سعدی دار الافتاء،متوطن: نل باڑی، سونا پور ہاٹ، اتردیناجپور، ویسٹ بنگال،الہند۔
13/ صفر المظفر 1446ھ
19/ اگست 2024ء
رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎_


Mashallah
ReplyDelete